About Jamiatul Banat

We're different, and we like it that way.

In the past, higher education and training in Islamic learning in our country was established for boys only but a quarter century ago in our country it started to be extended to the girls as well and in Hyderabad it started with Jamiatul Banat Hyderabad. The Jamia was established in 1988 by some well-wishers. Jamiatul Banath Hyderabad came to be the first Jamia for girls in South India.

Vision

Qru’an is a book which contains guidance and instructions for every aspect of life. Its illegible teaching will not yield any good results. If Qur’an is taught to Muslims with meaning and explanations and if the meanings are practiced, the world will become a breeding ground for a revolution which it has not seen before. All previous revolutions will lose their appeal.

Islam has given knowledge such high place, the world could not present an example before in its long history.

قُلْ هَلْ يَسْتَوِي الَّذِيْنَ يَعْلَمُوْنَ وَ الَّذِيْنَ لَا يَعْلَمُوْن ۔

The world could not go beyond knowledge for a living, knowledge for country or knowledge for nationalism. In contrast to this, Islam has crowned knowledge with divinity by making it knowledge for life, knowledge for enlightenment and intellectual evolution making it the means of deliverance in the hereafter. Pronouncing

اِقْرَاْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِيْ خَلَقَۚ

Islam united knowledge and enlightenment of the Creator indicating knowledge devoid of enlightenment of the Creator is no less deadly than ignorance.

Jamiatul Banat Hyderabad is not just another madrasah for girls, it was perceived and conceptualised to be different and it is destined to be a kind of its own madrasah in India.

The JBH difference lies in its being a reformatory movement for the Muslim girls’ education and training as a learned Muslim scholar as well as a skilled and trained participative Indian citizen.

Mission

JBH is not just looking at graduating students parroting some books and learning a few things but its real aim is to prepare a team in the weaker sex which not only directly access the original sources of Islam but capable of referencing and synthesizing from the Book of Allah and the traditions of the Prophet SAW. Whose purpose of a degree is not limited to some translation and explanation work but a good hold on the roots of Sharia and the works of great jurists and Muhaddisoon. A team which can qualify the xxxxxxxxxxx. From the perspective of training, to go beyond proselytization and propagation to a zealous desire for establishing Allah’s Deen. To make them role models of righteousness both ideologically and practically.

جامعۃ البنات ایک تعارف

ہم دین کےسپاہی ہیں، ہم حق کے ہیں نشان

ماضی میں علم دین کی اعلیٰ تعلیم و تعلم کا سلسلہ زیادہ تر لڑکوں کیلئے قائم تھا لیکن ربع صدی قبل لڑکیوں کیلئے بھی ہمارے ملک میں یہ سلسلہ شروع ہو اور الحمد للہ شہر حیدرآباد میں اس کی ابتدا جامعۃ البات حیدرآباد سے ہوئی ۔ جامعۃ کا قیام ٍ۱۹۸۸ میں کچھ درد مند ہستیوں کے ذریعہ ہو۔ اس طرح جامعۃ البنات حیدرآباد جنوبی ہند وستان کا اولین جامعۃ قرار پایا۔

نظریہ

قرآن ایک ایسی کتاب ہے جس میں زندگی کے ہر شعبہ کے لئے ہدایت اور احکام موجود ہیں۔ اس کی بے فہم تعلیم سے کچھ اچھا نتیجہ برآمد نہیں ہوتا۔ اگر مسلمانوں کوقرآن معانی اور تشریحات کے ساتھ سمجھایا جایے اور اس کے ترجمہ کو عملی جامہ پہنایاجائے تو دنیا ایک ایسے انقلاب کی تجربہ گاہ بن جائے گی کہ گذشتہ سارے انقلاب اس کے سامنے ماند پڑجائیں۔

اسلام نے علم کو ایک ایسا مقام بلند عطا کیا ہے جس کی مثال دنیائے انسانیت اپنی طویل تاریخ میں پیش نہیں کرسکی

قُلْ هَلْ يَسْتَوِي الَّذِيْنَ يَعْلَمُوْنَ وَ الَّذِيْنَ لَا يَعْلَمُوْن ۔

غیر اسلامی دنیا علم برائے پیٹ، علم برائے قوم اورعلم برائے وطن کے تصور سے آگے نہیں جاسکی۔ اس کے بالمقابل اسلام نے علم برائے زندگی، علم برائے معرفت، علم ذریعہ ارتقا انسانیت و روحانیت اور علم باعث نجات اخروی کا تصور دے کر علم کو تقدس کا تاج پہنادیا ہے۔ اِقْرَاْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِيْ خَلَقَۚ کہتے ہوئے اسلام نے علم اور معرفت رب کو باہم ملا کر یہ اشارہ بھی دے دیا ہے کہ علم جو معرفت رب سے مربوط نہ ہو وہ اپنی ہلاکت خیزی میں جہالت سے کچھ کم نہیں۔

وہ علم نہیں زہر ہے احرار کے حق میں جس علم کا حاصل ہو جہاں میں دو کف جو

جامعۃ البنات امت کی بیٹیوں کیلے ایک اور دینی مدرسہ نہیں ہے بلکہ یہ ایک خاص مقصد کیلئے وجود میں لایا گیاملک میں اپنی نوعیت کاایک منفرد دینی تعلیمی ادارہ ہے۔

جامعۃ کی انفرادیت مسلم لڑکیوں کیلئے اعلی معیار کے تعلیمی ادارے کے ساتھ ساتھ اس کے ایک اصلاحی

تحریک ہونے سے عبارت ہے جس کا مقصد و مدعا یہ ہے کی یہاں کی طالبات دینی علوم میں مہارت کے علاوہ عصری علوم و فنون میں بھی اعلی قابلیت حاصل کرسکیں اور ملک و ملت کی تعمیر و ترقی میں حصہ لے سکیں۔

جامعہ کا مقصد

جامعۃ البنات کے پیش نظر محض ایک کورس سے گزاردینا اور چند کتابیں پڑھا کر کچھ معلومات مہیا کرنا نہیں ہے بلکہ اس کے مقاصد میں اصل چیز یہ ہے کہ صنف نازک میں ایک ایسی ٹیم تیار کی جائے جو دین کے اصل سر چشموں کتاب و سنت سے راست استفادہ ہی نہیں استدلال کی صلاحیت کی بھی حامل ہو اور جس کا مبلغ علم محض اردو ترجمہ و تشریح تک محدود نہ ہو بلکہ اس کی نظر میں نصوص شرعیہ کے ساتھ فقہا و محدثین کے سارے کارنامے بھی ہوں اور پھر وہ خذ ماصفا ودع ما کدر کا حق ادا کرسکیں۔ اسی طرح تربیتی پہلو کے لحاظ سے دین کی اشاعت تبلیغ سے آگے غلبہ دین و اقامت دین کا داعیہ طالبات میں ابھرے اور اس کے لیے نظری و فکری اور عملی ہر اعتبار سے علم صحیح کے حامل اور عمل صالح کا نمونہ بن جائیں۔